Home About UsContact UsSubmit News ISSN 2225-237 اردو خبریں

‫حج 2017 کی تکمیل

Date: September 6, 2017 Author: Web Desk Category: General Urdu Tags: Short URL Comments: 0

مکہ مکرمہ، سعودی عرب، 5 ستمبر، 2017/پی آر نیوز وائر/ —

اس سال تقریباً  2.35ملین حاجیوں نے امن اور اتحاد کے ساتھ عالم اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ میں اپنے مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ اپنا حج مکمل کیا۔

سعودی عرب نے ساری دنیا کے درجنوں ممالک کے حاجیوں کا پانچ روزہ حج کے لیے استقبال کیا جو اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے، اور اسے بہت سے لوگ اپنی روحانی زندگی کی معراج سمجھتے ہیں۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_bfrobhk0/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

(تصویر: http://mma.prnewswire.com/media/551751/Hajj_2017_Pilgrims.jpg )
(تصویر: http://mma.prnewswire.com/media/551752/Hajj_2017_holy_pilgrimage.jpg )

اس سال حج کے لیے مکہ مکرمہ آنے والے 23,52,122 حاجیوں میں سے 1.75 ملین حجاج سلطنت سعودی عرب سے باہر کے تھے۔ 1 ملین سے زیادہ حجاج ایشیا سے آئے، اور تقریباً  400,000 حجاج نے غیر۔جی سی سی ممالک سے سفر کیا۔ تقریباً 200,000 حجاج افریقی ممالک سے آئے۔ 100,000 کے قریب حجاج یورپی ممالک سے آئے، جبکہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسٹریلیا سے آنے والے حاجیوں کی مجموعی تعداد  25,000 کے آس پاس تھی۔ لگ بھک 33,000 حجاج جی سی سی ممالک سے آئے۔

’’ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں ساری دنیا کے حجاج کرام کا استقبال کرنا سعودی عرب کا فرض اور اعزاز ہے۔  ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ حجاج کرام کا حج پر امن اور مکمل ہو، ہر ممکن کوشش کرتے ہیں،‘‘ یہ بات وزیر ثقافت و اطلاعات ڈاکٹر عواد العواد نے کہی۔

’’خواہ یہ منی میں رہائش گاہوں کی فراہمی ہو یا طبی سہولتوں کی تعیناتی ہو یا پھر حجاج کو مفید معلوماتی کڑا فراہم کرنا ہو، مکہ آنے والے حجاج کے لیے ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عواد العواد نے مزید کہا کہ، ’’اس تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ہماری کوششیں مسلسل اور جاری ہیں۔‘‘

حج کے لیے رسد

ہمیشہ کی طرح، دو ملین سے زیادہ لوگوں کی رہائش کے لیے عارضی شہر بسانے کا مطلب ہے کہ سعودی عرب کو حجاج کی صحت، حفاظت اور بہتر انتظام کے لیے غیر معمولی کوششیں کرنی تھیں۔

مکہ مکرمہ میں مقامات مقدسہ کے آس پاس 15 سے زیادہ طبی مراکز تھے، جن میں 30,000 سے زیادہ تربیت یافتہ طبی پیشہ وران تعینات تھے۔ حج کے دوران، ڈاکٹروں نے 2,600 سے زائد مفت سرجری کیں، اور تقریباً 60,000 حجاج کا علاج کیا گیا۔

حج کے لیے سعودی عرب آنے والے غیر ملکیوں میں،  1.6 ملین سے زیادہ حجاج ہوائی جہاز سے آئے، جن میں سے زیادہ تر لوگ جدہ اور مدینہ منورہ کے راستے آئے، جہاں ہوائی اڈوں پر حجاج کرام کے استقبال کے لیے خصوصی ٹرمنل موجود ہیں۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_auuwsu3v/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

یہ سہولتیں جو سعودی عرب کے اپنے خرچ سے تعمیر ہوئی ہیں، 1950 کی دہائی سے سعودی عرب کے ذریعہ، مکہ مکرمہ  تک رسائی میں بہتری، مسجد الحرام کے رکھ رکھاو، اور حج کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے  دسیوں بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی بس ایک ادنی مثال ہے۔

ہمیشہ کی طرح، حج کا ایک مرکز منی میں خیموں کا وسیع شہر تھا، جہاں حجاج کرام نے آتش مزاحم مواد سے بنے ایئر کنڈیشنڈ خیموں میں قیام کیا۔ خیموں کے شہر میں، حاجیوں کو ان کی قومیت کے لحاظ سے رکھا گیا تھا۔

بلا شبہ، حج جیسی بڑی تقریب کئی کبھی کبھی حجاج کے لیے مشکل اور الجھن کا باعث ہو جاتی ہے، اسی لیے 2017 لگاتار دوسرا سال تھا جب حجاج کو انفرادی الیکٹرانک شناختی کڑا دیا گیا۔

ہر کڑے میں حاجی کی ذاتی معلومات کے ساتھ اگر کوئی خصوصی طبی ضرورت ہو تو وہ درج ہوتی ہے۔ آلات، جو پانی مزاحم اور جی پی ایس ڈیٹا سے لیس ہیں، انھیں نمازوں کے اوقات کی تازہ معلومات اور حج سے متعلق دیگر تفصیلات کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔

کڑے کا استعمال کثیر لسانی ہیلپ ڈیسک سے رابطے کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے جس میں دیگر مزید تفصیلی سوالات پوچھے جا سکتے ہیں اور ان کے جوابات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی منتظمین کے ذریعہ حجاج کے موبائل آلات پر حج کی تازہ معلومات کی فراہمی سے کلائی کے کڑے کی افادیت میں اضافہ ہوا ہے۔ حج 2017 کی تمام معلومات دو ویب سائٹس پر بھی اپڈیٹ کی جاتی تھیں: SaudiWelcomesTheWorld.org and Hajj2017.org.

درج ذیل فہرست اس سال کے حج میں حفاظت و سہولت کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی جانب سے وسائل کی تعیناتی کی نمائندہ مثال ہے:

  • 20 سے زیادہ سرکاری اداروں کی نمائندگی کرنے والے 51,700 عملے کا چوبیسوں گھنٹے کام کرنا
  • مقامات مقدسہ پر پیدل چلنے والے لوگوں کی سہولت اور ’حج میٹرو‘ کو چلانے اور اس کے انتظام کے لیے مکہ مقامی ترقیاتی حکام کا 14,000 عملہ
  • مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں نماز کی جگہوں پر ٹھنڈا زمزم پہونچانے کے لیے جنرل پریزیڈنسی سے 6,300 سے زائد اراکین کے عملہ کی تعیناتی
  • 4،480 افراد کا عملہ مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ میں میں حاجیوں، شہریوں اور رہائشیوں کے لئے میونسپل خدمات فراہم کرتے ہیں
  • حاجیوں کے استقبال کے لیے داخلے کے بندرگاہوں کی تیاری اورلوازمات سے لیس کرنے کے لیے جنرل شعبۂ پاسپورٹ کے 4,470 اراکین کا عملہ
  • مختلف اقسام کی خدمات جیسے کھوئے ہوئے حجاج کو راستہ دکھانے کے لیے 3,706 اسکاؤٹس
  • وزارت حج کے تحت مختلف قومیتوں اور پس منظر کے 2,935 رضاکار
  • 2,280 شہری دفاعی عملہ کے اراکین کی آگ بجھانے اور ہنگامی طور پر بچانے کے لئے، حفاظتی اقدامات کی نگرانی اور طبی انخلاء میں مدد کے لیے تعیناتی
  • 104 سے زائد ٹی وی چینلز اور 19 ریڈیو اسٹیشنوں پر میڈیا کی خدمات فراہم کرنے اور لائیو کوریج فراہم کرنے والے 1,650 میڈیا کے پیشہ وران
  • 1,500 ٹکنیشین
  • نیشنل واٹر کمپنی کے 1،307 عملے کے ارکان اور تکنیکی ماہرین
  • کھانے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے 279 عملے کے ارکان
  • لیبر اینڈ سوشل ڈویلپمنٹ کی وزارت سے اداروں کے معائنہ کے لیے 240 انسپکٹر
  • حاجیوں کے سوالات کے جواب کے لیے وزارت اسلامی امور، دعوہ اینڈ گائیڈنس کے لوگوں سے لیس 130 ہیلپ ڈیسک
  • مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور دیگر مقامات مقدسہ میں 67 شہری دفاعی مراکز

حج کی روح

بلا شبہ، حج تعداد کے ان ہندسوں سے کہیں بڑی چیز ہے؛ جس میں ہر حاجی کا اپنا گہرا اور ذاتی تجربہ ہوتا ہے۔ اور حجاج کے پاس اپنے اس مذہبی فریضے کی ادائیگی کےلیے منفرد نقطۂ نظر ہوتا ہے۔

ہماری  سب سے عمر دراز حاجی انڈونیشیا کے ایبو ماریہ مرغنی محمد ہیں جن کی عمر 104 سال ہے، جوجدہ میں 26 اگست تشریف لائیں اور اس ہفتے کے آخر میں انھوں نے مکہ مکرمہ میں کہا کہ ان کا سفر حج ایسا ’’تجربہ تھا جسے وہ تاحیات نہیں بھولیں گی‘‘۔

دوسرے نوجوان حاجی محمد کہمین سیتیاوان نے 9,000  کیلو میٹر کا سفر ایک سال کے ’’روحانی مہم‘‘ کے طور پر میں پیدل طے کیا۔

یہ ہزاروں ہزار ذاتی کہانیوں میں سے فقط چند ہیں جو مسلم دنیا میں حج کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

حج کی روح کا شاید بر سعودی عالم شيخ سعد الشاذري نے بہترین طریقے سے عرفات میں 31 اگست کو دیے گئے اپنے خطبہ میں اظہار کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ حج کے بنیادی مقاصد میں سے ایک ’’لوگوں کے دلوں کو بیدار کرنا ہے۔ یہ جگہ جماعتوں کے نعروں یا فرقہ وارانہ تحریکوں کے لیے نہیں ہے۔‘‘

جیسے ہی حاجیوں نے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کیا، سعودی عرب میں اگلے سال کے حج کی تیاری شروع ہو گئی۔ دنیا کے سب سے بڑے سالانہ اجتماع کے انتظام اور میزبانی کا کام کبھی نہیں رکتا۔

رابطہ برائے میڈیا

مرکز برائے بین الاقوامی مواصلات (سی آئی سی)،  وزارت ثقافت و اطلاعات، سلطنت سعودی عرب؛

ٹیلیفون: 3535-893-53-966+, ای میل: cic@moci.gov.sa, ٹوئیٹر: @CICSaudi

ماخذ: وزارت ثقافت و اطلاعات، سلطنت سعودی عربیہ